نئی دہلی،3/اگست(ایس او نیوز/ایجنسی)بی جے پی کی حکومت والی ریاست منی پور تشدد کی آگ ابھی دہک ہی رہی تھی کہ بی جے پی حکومت والی دوسری ریاست ہریانہ کے مسلم علاقے نوح میں وی ایچ پی کی ایک ریلی کے دوران دو فرقوں میں تصادم ہوگیا جس میں مسجد کے ایک امام سمیت 6/لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ ایک طرف جہاں حالات پرامن بنانے کی اپیلیں کی جارہی ہیں وہیں وی ایچ پی کے شعبہئ سکریٹری وجے کانت پانڈے نے کھٹر کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر حکومت نے شرپسند یعنی مسلمانوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو ریاست کی صورتحال خراب سے خراب ہوجائے گی۔ اس دھمکی سے لگتا ہے کہ کھٹر حکومت خوف زدہ ہوگئی ہے اور اس نے صاف طور پر کہا ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے ہر فرد کی حفاظت کرنا انتظامیہ کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان سے امن چاہنے والے لوگوں کو بڑی ناامیدی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ وی ایچ پی کے شعبہ سکریٹری، وجے کانت پانڈے نے نیشنل ہیرالڈ کو بتایا کہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)ہریانہ کے نوح ضلع میں ہندو مخالف تشدد کے خلاف ملک بھر میں سات دن طویل احتجاج اور مختلف عوامی ریلیوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ آج سے شروع ہونے والے مظاہرے دہلی میں 30 مقامات پر دیکھے گئے۔ تقریباً 50 /افراد مدر ڈیری کے احتجاجی مقام پر اور 200 /افراد کو نرمان وہار میں دیکھا گیا۔وجئے کانت پانڈے نے کہا کہ اگر انتظامیہ ہماری بات نہیں مانتی یا کارروائی نہیں کرتی ہے تو اگلے سات دنوں میں احتجاج بڑھے گا اور خطرناک شکل اختیار کر لے گا۔ ودھرمیوں (اشارہ دوسرے مذاہب، خصوصاً مسلم مبلغین کی جانب)کی طرف سے ہندوؤں پر یہ پرتشدد حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تمام متاثرین ہندو ہیں۔ ہندو جاگ چکا ہے۔وجے کانت پانڈے مزید کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی کوئی غلطی نہیں ہے، وہ کیوں ڈریں گے؟ ہندو خوفزدہ نہیں ہیں، ہندوؤں پر لاتعداد حملے ہو رہے ہیں۔ یہ احتجاج (دہلی میں)آنے والے دنوں میں اس سے زیادہ بڑی ریلیوں کی علامت ہے جسے ہندو منعقد کریں۔